تختِ جم ہو یا کہ دارا یا ہوشاہا تختِ کَے
قصیدہ در مدحِ وجہِ تخلیقِ جہاں از ۔ سید رضا علی ، اورنگ آبادی *ہیں شہنشاہِ جہاں اُن کے گدا کے سامنے* *پھر رہے ہیں یوں کہ گویا دولتِ عالَم لیے* *منظرِ طیبہ وطن میں یاد زائر جب کرے* *کہتا ہے، پھر! کاش، بہرِ دیدِ منظر لوٹتے* *ہوتے شامل بلبلانِ دشتِ طیبہ میں جو ہم* *چہچہوں میں دل کا عالم ان کے در پر بولتے* *ہے خطابِ اَیُّکُم مِثلِی گواہ بے مثل ہیں* *مثل کہنے والے رکھیں اپنے ...