اشاعتیں

تختِ جم ہو یا کہ دارا یا ہوشاہا تختِ کَے

قصیدہ در مدحِ وجہِ تخلیقِ جہاں از ۔ سید رضا علی ، اورنگ آبادی  *ہیں   شہنشاہِ   جہاں   اُن   کے    گدا    کے  سامنے*  *پھر   رہے    ہیں   یوں  کہ   گویا   دولتِ   عالَم لیے*  *منظرِ   طیبہ   وطن   میں   یاد    زائر   جب  کرے*  *کہتا ہے،   پھر!  کاش،    بہرِ    دیدِ    منظر    لوٹتے* *ہوتے   شامل    بلبلانِ   دشتِ   طیبہ   میں  جو  ہم*  *چہچہوں    میں   دل   کا   عالم ان کے در پر بولتے*  *ہے   خطابِ    اَیُّکُم    مِثلِی   گواہ   بے   مثل   ہیں*  *مثل    کہنے   والے    رکھیں     اپنے    ...

یہاں یار کےمدح خواں اور بھی ہیں

غزل سیدخالدعبداللہ عبداللہ اشرفی اورنگ آباد مہاراشٹر الہند یہاں اور بھی ہیں وہاں اور بھی ہیں  "ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں" گل عشق تیرا پسند آیا ورنہ زمانے میں یوں گلستاں اور بھی ہیں مچاتے  ہو واویلا کیوں اتنا پیارے  ابھی دل میں ارماں جواں اوربھی ہیں وہ کرکے اشارہ مری سمت بولے  مرے عشق میں نیم جاں اور بھی ہیں اگر تم ہو یکتا جہاں میں  حسیں تو  دوانے بھی ہم سے کہاں اور بھی ہیں ترے در پہ دھونی  رمائیں کیوں آخر زمانے میں کوئے بتاں اور بھی ہیں یہ مخصوص دیر و حرم پر نہیں ہے  ترے تو جہاں میں مکاں اور بھی ہیں ارے کور بیں  جلوے جاناں کے ہرسو نہاں اور بھی ہیں عیاں اور بھی ہیں توجہ  شمع  سے ہٹا کر  بھی دیکھو یہاں جلنے والے مکاں اور بھی ہیں یہ ہے بزم جاناں تکبر نہ کرنا یہاں یار کےمدح خواں اور بھی ہیں تو ہی ایک خالد نہیں اس کا اپنا تری طرح سن! رازداں اور بھی ہیں

چین،سکوں سے،راحت سے

2021 کی آخری نعتیہ کاوش از ۔ فارِح مظفرپوری 31/دسمبر 2021 ہرسانس ہمیشہ لیتاہوں میں چین،سکوں سے،راحت سے خوشحال مرا دل رہتا  ہے  ہر لمحہ انھی کی مدحت سے کعبہ کو بنائے ہو قبلہ ، یثرب کو بنائے مدینہ ہو "صحرا میں کھلے ہیں پھول حسیں، سرکار تمھاری رحمت سے" بیتاب نگاہیں ہیں میری للہ ادھر ہو ایک نظر تسکین انھیں مل جائے گی بس نوری در کی زیارت سے اک بار سہی بلوا لیجے ، دیدار مدینہ کرادیجے امید لیے بیٹھا ہوں یہی یا شاہ عرب اک مدت سے جو نام نبی پر مرتے ہیں وہ شان سے مر کر جیتے ہیں یہ موت میسر ہوتی ہے عشاق کو اپنی قسمت سے خیرات جو در سے پاتا ہے بس گیت انھیں کا گاتا ہے مطلب وہ نہیں رکھتا ہے کبھی دنیا کے مال و دولت سے جب ان کی ثنا  کا  ارادہ ہو  الفاظ  مقدس لانا تم پھر شعرتمھارا نکھرے گا اے فارِح ان کی عنایت سے

جو بارگہ سید ابرار میں آیا

2022کی پہلی نعت پاک از ۔ فاتح چشتی مظفرپوری زمین۔۔عرفان صدیقی سوچا بھی نہ تھا میں نے جو اظہار میں آیا قسمت کا بڑا تھا بڑے دربار میں آیا سرکار مرے آپ کی سرکار میں آیا گو خلد بریں کے وہ مزے لوٹ رہا ہے جو بارگہ سید ابرار میں آیا ہر تار نفس موجۂ تسکین میں ڈوبا جب ذکر نبی قریۂ تذکار میں آیا مربوط کیا سلک ثنائے شہ دیں سے  تب جا کے ادب حیطۂ معیار میں آیا اے طائر لاہوت مبارک ہو مبارک تمدیح کا دانہ تری منقار میں آیا اک حرف تری عظمت یکتا کا لیا تھا شعلوں کا جنوں شوخئ گفتار میں آیا بانوئے ادب ناز سے بل کھانے لگی ہے مدحت کا بیاں جیسے ہی اشعار میں آیا سورج کی چمک،مہ کی دمک،زور تنور ہر وصف، نظر حسن طرح دار میں آیا گیسوئے معنبر جو کھلے جان جہاں کے رحمت کا سماں وادی و کہسار میں آیا جو پایا گیا زلف معطر کے جلو میں وہ رنگ کبھی نافہ و نسوار میں آیا؟ خورشید و قمر بن کے وہ چمکا ہے افق پر جو ذرہ رہ  راحلۂ یار میں آیا پنجاب عطا جیسا بھی دیکھا ہے کسی نے؟  وہ جوش تموج کبھی ابحار میں آیا؟ چرچے تھے ہر اک سمت فلک پر شب اسرا یہ کون حسیں پردۂ زنگار میں آیا اس گنبد اخضر کا تصور ہی کیا تھا سامان شفا دید...

وہ ترا عروج و کمال ہے

نعت پاک از ۔ نورالہدیٰ رضوی ، دربھنگہ، بہار نہ کسی طرح کی فسردگی نہ کسی طرح  کا ملال ہے  مرا دل خوشی سے نہال ہے ترا لطف شاملِ حال ہے  جسے انحطاط کی فکر ہے نہ تنزلی کا خیال ہے  جو بعیدِ لوثِ زوال ہے وہ ترا عروج و کمال ہے ترا ہر عمل تری ہر ادا ، بخدا ہے سب سے علیحدہ  ترا کیا کسی سے موازنہ کہ تو آپ اپنی مثال ہے گل و لالہ سنبل و نستریں ، یہ یونہی نہیں ہوۓ عنبریں کہ چمن چمن میں بسی ہوئی تری خوشبوۓ خد و خال ہے میں نشیب ہوں تو فراز ہے میں  گدا  تو  بندہ نواز ہے نہ تو مجھ سا کوئی گنوار ہے نہ ہی تجھ سا خیر سگال ہے یہ صلاۓ عام  کا سلسلہ کہ ہیں ساتھ بیٹھے شہ و گدا سرِ میزِ فرش بچھا ہوا ترا خوانِ  جود و نوال ہے انھیں دل سے یاد کیا کرے ہمہ دم درود پڑھا کرے  جو ہے شامِ ہجر میں مبتلا جسے شوقِ صبحِ وصال ہے تب و تابِ دید جو  لا  سکے رخِ شہ پہ نظریں جما سکے  نہ  کسی کی اتنی بساط ہے نہ کسی میں اتنی مجال ہے تری  بارگاہ  میں  اے خدا ہے یہ عرضِ رضویِؔ بے  نوا رہے محوِ نعت ہی جب تلک تن و جاں کا رشتہ بحال ہے

مری اجڑی بستی بسا گیا

 غزل از ۔ عبدالقیوم ارم شکوہی سیتاپوری ۹/دسمبر ۲۰۲۱  جمعرات جو مثالِ ابرِ سکونِ دل  ہے دل و دماغ پہ چھا گیا مرےقلب و جاں میں سما کے وہ مری اجڑی بستی بسا گیا جسے دیکھ دیکھ کے اہلِ دل کو ملی تھی پیار کی روشنی وہ چراغ حسنِ خلوص کا یہ جہانِ مکر بجھا گیا ہوا مبتلائے حرام دل  ہے غریق حرص و ہوس نفَس " وہ نشاطِ آہِ سحر نہیں وہ وقارِ دستِ دعا گیا " ترے لب گلاب کی پنکھڑی  تری شکل جانِ گلاب ہے کہ بہارِ حسن کا رنگ بھی ہے تری ادا میں سما گیا مرا مدعا تری ذات ہے مرا مشغلہ ترا ذکر ہے مجھے کیا غرض ہے جہان سے مری زندگی میں تو آ گیا یہ سزا ملی ترے عشق میں میں بھٹک گیا رہ عشق سے دلِ بے وفا کی ہے چوٹ کیا کوئی مار کے یہ بتا گیا تری ایک ضرب فراق سے ہے ارم تو ہو گیا جاں بلب ارے بے وفا یہ بتا ذرا تجھے کیا ہوا؟ ترا کیا گیا ؟

رونق کل جہان آیا ہے

نعت شریف از ۔ فیضان سرور ، بھاگلپوری نوع انساں کی جان آیا ہے کل رسولوں کی شان آیا ہے لے کے امن وامان آیا ہے رونق کل جہان آیا ہے ڈال دی جان جانِ رحمت نے جب کوئی نیم جان آیا ہے جس کےآگے ہیں گنگ اہل زباں وہ فصیح اللسان آیا ہے لہجےرس گھولتے ہیں کانوں میں ایسا شیریں بیان آیا ہے تیرے آنگن میں آمنہ بی بی عرش  کا  میہمان آیا ہے جو بتائے گا راز حق سرور  رب کا وہ ترجمان آیا ہے

نغمۂ نعت گنگناتا ہوں

 نعت رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلّم  از راحت انجم (ممبئی) نغمۂ نعت گنگناتا ہوں رنج و غم سے نجات پاتا ہوں  صبح تا شام چرخ مدحت میں  طائر فکر کو اڑاتا ہوں  شکر مولیٰ کہ خانۂ دل میں  بزم یاد نبی سجاتا ہوں چاہتا جب بھی ہوں ، تصور میں  روضۂ مصطفیٰ پہ جاتا ہوں  ہاتھ اٹھاتا ہوں جب دعا کے لیے  میں وسیلہ انھیں بناتا ہوں  اپنے آقا کی بات کر کر کے  بخت خوابیدہ کو جگاتا ہوں  ان کا پانی ہے ان کا دانہ ہے  جو میں پیتا ہوں جو میں کھاتا ہوں جو ہیں دشمن حضور کے راحت  ایسوں سے دل نہیں لگاتا ہوں

خوشنما موسمِ بہار نہیں

غزل رنگ عارفانہ از ۔ شمس تبریز خاکی ظہوری بلگرامی خانقاہ ظہوریہ چشتیہ قادریہ بلگرام شریف ہردوئی  اس کو بیشک چمن سے پیار نہیں جس کو محبوب اس کا خار نہیں اس میں کچھ بھی نہیں ہے جو تیرے چاہنے والوں میں شمار نہیں سچ کہوں تو ترے بغیر صنم خوشنما موسمِ بہار نہیں عشق  کا باب نامکمل ہے دل اگر تیرا بے قرار نہیں  روٹھ جانے سے اک ترے ساقی جام و مینا میں وہ خمار نہیں بھیک دیتے ہیں سب مگر جاناں کوئی دیتا یوں بار بار نہیں کیا  حقیقت ہے بزم میں اس کی جس پہ خاکی نگاہِ یار نہیں

مدت سے میرے گھر کوئی مہماں نہیں رہا

غزل از ۔ محمد قیصر رضا تیغی سمستی پور دردِ جگر کا جب کوئی ساماں نہیں رہا جینے کا میرے دل میں بھی ارماں نہیں رہا راہِ خدا میں اپنا لٹائے  جو مال و زر افسوس ایسا کوئی بھی سلطاں نہیں رہا خود بھوکا رہ کے کھانا کھلائے غریب کو یہ  کام  میرے  دوستو  آساں نہیں رہا برکت چلی گئی ہے مرے گھر سے اس لیے مدت سے میرے گھر کوئی مہماں نہیں رہا راہِ وفا میں جان کی بازی لگائے جو اس دورِ پرفتن میں وہ انساں نہیں رہا کھاتا ہے ٹھوکریں وہ زمانے میں ہر طرف جس کا جہاں میں کوئی نگہباں نہیں رہا کس  کو  سناؤں  حال،  غمِ روزگار کا اب کچھ بھی آہ درد کا درماں نہیں رہا کرتا  ہے  جو  بھروسہ  خدا  پر جہان میں  قیصر وہ دو جہاں میں پریشاں نہیں رہا